بریکنگ نیوز
ADVERTISEMENT · Recommended 728 × 90
Advertisement Space
Recommended size: 728 × 90

ٹرمپ کی ایران پر ایٹمی حملے کی تیاری؟ معروف امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے تاریخ بتا دی

November 2, 2026 | admin

واشنگٹن: امریکی صحافی اور سیاسی مبصر ٹکر کارلسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو کے دباؤ کے باعث ٹرمپ انتظامیہ ایران پر جوہری حملہ کرنے کے امکان پر غور کر رہی ہے اور اس حوالے سے فیصلہ چند روز میں متوقع ہے۔

کارلسن کے مطابق مجوزہ حملے کا ہدف وسطی ایران میں واقع پیک ایکس ماؤنٹین ہو سکتا ہے، جہاں اسرائیلی انٹیلی جنس کے دعوے کے مطابق ایران نے اپنا جوہری افزودگی کا پروگرام دوبارہ شروع کردیا ہے۔

سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں ٹکر کارلسن نے لکھا کہ امریکی روایتی ہتھیار 300 فٹ گہری ٹھوس گرینائٹ چٹان کو عبور کرکے پہاڑ کے اندر موجود سرنگوں کو تباہ نہیں کرسکتے، اس لیے ان کے بقول فوجی کارروائی کے لیے واحد آپشن جوہری حملہ رہ جاتا ہے۔

کارلسن نے ایک باخبر مبصر کے حوالے سے یہ دعویٰ بھی کیا کہ نیتن یاہو اس معاملے پر ٹرمپ سے روزانہ رابطہ کرتے ہیں۔

ٹکر کارلسن کے مطابق گزشتہ ہفتے کے انتخابی نتائج کے بعد نیتن یاہو کو نئی حکومت بنانے کے لیے کنیسٹ میں 61 ارکان کی حمایت درکار ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقصد کے لیے ٹرمپ کو اسرائیلی سیاست میں براہِ راست مداخلت کرتے ہوئے دوسری جماعتوں کے ساتھ معاہدہ کرانا پڑ سکتا ہے۔

کارلسن نے دعویٰ کیا کہ وزارتِ عظمیٰ سے محرومی کی صورت میں نیتن یاہو کو سیاسی رسوائی، تحقیقات اور ممکنہ طور پر جیل جانے جیسے مسائل کا سامنا ہوسکتا ہے۔ ان کے مطابق نیتن یاہو کو اپنے سیاسی مستقبل کے لیے ٹرمپ کی حمایت درکار ہے اور اسی وجہ سے وہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے خواہاں ہیں۔

کارلسن نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو نے امریکی انتظامیہ میں اپنے قریبی اتحادیوں، وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور سینٹ کام کے کمانڈر بریڈ کوپر پر ایران کے خلاف بڑی فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے دباؤ ڈالا ہے۔

ان کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور سی آئی اے کے ڈائریکٹر جان ریٹکلف بھی نیتن یاہو کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں۔ کارلسن نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے بعض رہنما اس معاملے میں نیتن یاہو کے مؤقف کے ساتھ ہیں، جبکہ سابق امریکی صدر براک اوباما نے ایک حالیہ اجلاس میں دوحہ میں تیار کیے جانے والے ایران امن معاہدے کی مخالفت کی تھی۔

ٹکر کارلسن کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں امریکا کے دیرینہ اتحادی بھی جنگ میں مزید شدت کے امکان پر تشویش کا شکار ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو 27 ستمبر کو خفیہ طور پر ابوظہبی گئے تھے تاکہ ایران پر آخری حملے کے لیے متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل کرسکیں، تاہم اماراتی حکام نے اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔

کارلسن نے خبردار کیا کہ آٹھ ماہ سے جاری تنازع کے باعث خلیجی معیشتوں کے ساتھ عالمی توانائی اور کھاد کی منڈیاں بھی دباؤ کا شکار ہیں۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں تیل کی ترسیل کے لیے تقریباً 850 بڑے آئل ٹینکر استعمال ہوتے ہیں اور اکتوبر کے دوران آبنائے ہرمز میں ان میں سے 11 کو شدید نقصان پہنچا۔

ADVERTISEMENT · Recommended 500 × 500
Advertisement Space
Recommended size: 500 × 500

مزید خبریں